ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کنداپور: ہندونوجوان نے خودکشی کرتے ہوئے لگایا دہشت گرد تنظیم پر ہراسانی کا الزام۔ ڈیتھ نوٹ گھروالوں اور پولیس کے لئے ایک معمہ

کنداپور: ہندونوجوان نے خودکشی کرتے ہوئے لگایا دہشت گرد تنظیم پر ہراسانی کا الزام۔ ڈیتھ نوٹ گھروالوں اور پولیس کے لئے ایک معمہ

Tue, 16 Oct 2018 19:27:38    S.O. News Service

کنداپور16؍اکتوبر (ایس او نیوز) کوٹیشورا کے قریب بوبریمکّی علاقے میں ویویک موگویرا(23سال) نامی ایک ہندو نوجوان نے اپنے گھر میں ہی پھانسی لگاکر خودکشی کرلی ہے ، مگر اس نے ڈیتھ نوٹ کے طور پر جو تحریر چھوڑی ہے وہ اس کے گھر والوں اور پولیس کے لئے ایک معمہ بن گئی ہے۔ کیونکہ ویویک نے الزام لگایا ہے کہ وہ ایک دہشت گرد تنظیم کی طرف سے کی جارہی ہراسانی سے تنگ آکر خود کشی کررہا ہے۔

ویویک موگویرا ایک غریب ماہی گیر خاندان کا نوجوان تھا۔ اور ریلائنس فاؤنڈیشن کے اگریکلچرل سیکشن میں ملازمت کررہاتھا۔اس کی والدہ کاویری کے بیان کے مطابق پیر کے دن ویویک نے بتایا کہ اسے عجلت میں رات ہی کو بنگلورو کے لئے نکلنا ہے اس لئے وہ کچھ دیر اپنے کمرے میں آرام کرنے جارہا ہے ۔ لیکن جب بہت دیر گزرنے کے بعد بھی ویویک کمرے سے باہر نہیں نکلا اوربار بار آواز دینے پربھی اندر سے کوئی جواب نہیں ملاتو اس کے گھر والوں نے کمرے کا دروازہ توڑکر اندر جھانکا تو کمرے میں ویویک کی لاش ایک ساری سے لٹکتی ہوئی پائی گئی۔

خودکشی سے پہلے اس نے کمرے میں ایک تحریربھی چھوڑی تھی جس میں ایک بے نام دہشت گرد تنظیم کی ہراسانی کو اپنی موت کے لئے ذمہ دار بتاتے ہوئے لکھا ہوا ہے کہ:’’ اس دہشت گرد تنظیم سے مجھے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان کو خطرہ پید اہوگیا تھا۔میں دوسال قبل اچانک ہی اس تنظیم سے رابطے میں آیا تھا۔جس کے بعد مجھے اس تنظیم کے تعلق سے بہت زیادہ تفصیلات معلوم ہوگئیں۔جب اس بات کاعلم تنظیم کے اراکین کو ہواتوانہوں نے مجھے جان سے ماردینے کی دھمکی دینا شروع کیا۔میں نے شروعات میں سوچا تھا کہ ان کے شکنجے سے باہر نکلنے کے لئے میں اپنا گھر اور گاؤں چھوڑ کر کہیں دوربھاگ جاؤں گا۔لیکن بعد میں میں نے فیصلہ کیا کہ خود اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔میں چاہتاہوں کہ اس تنظیم کے خلاف کارروائی کی جائے جو مجھ سے نوجوانوں کی زندگی جہنم جیسی بنا رہے ہیں۔‘‘کہتے ہیں کہ ویویک نے اپنے ڈیتھ نوٹ میں اپنے جسم کو نہ جلانے اور اپنے اعضاء عطیہ دینے کی درخواست بھی کی ہے۔

ویویک کے بارے میں اسے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک بااخلاق اور پیاری شخصیت کا مالک نوجوان تھا۔ وہ کسی بھی ہندوتواوادی تنظیم کے ساتھ سرگرم بھی نہیں تھا۔اس کا چھوٹے بھائی نے ابھی ابھی گریجویشن مکمل کیا ہے۔ویویک کوایک اچھی کمپنی میں ملازمت مل جانے کے بعدوہ اپنے خاندان کے لئے بڑا سہارا بن گیا تھااور گھر والوں کو امید تھی کہ ویویک کی وجہ سے انہیں خوش حالی دیکھنا نصیب ہوگا۔

ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں غیر فطری موت کا کیس درج کرلینے کے بعد افسران نے بتایا کہ وہ موت سے قبل ویویک کی لکھی گئی تحریر کی حقیقت کے بارے میں پوری تحقیقات کریں گے۔ایک مقامی ہندو لیڈر شنکرانکڈکٹّے نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیتھ نوٹ میں بیان کی گئی تفصیلات کی بنیاد پر پوری گہرائی سے تحقیقات کی جانی چاہیے۔


Share: